ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دوسال کی تاخیر سے فیصلہ کے خلاف اپیل کو عدلیہ نے کیا مسترد

دوسال کی تاخیر سے فیصلہ کے خلاف اپیل کو عدلیہ نے کیا مسترد

Sun, 01 Oct 2017 20:36:44    S.O. News Service

نئی دہلی یکم اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)پٹیالہ ہاؤس عدالت نے ایک شخص کی اپیل کواس لیے ٹھکرا دیاکہ اس نے فیصلہ جاری ہونے کے دو سال بعدعدلیہ میں چیلنج کیا اور تاخیرہونے کی کوئی ٹھوس وجہ بھی نہیں بتائی۔اس شخص کو ٹرائل کورٹ کے اس حکم پر اعتراض تھاجس میں اس سے الگ رہ رہی اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کے گذر اوقات کے لئے ہر ماہ25000روپے دینے کا حکم دیا تھا ،مذکورہ شخص نے دو سال بعد آرڈر کے خلاف ایک اپیل درج کی تھی ۔اسپیشل جج راکیش پنڈت نے نظام پور رہائشی ایک مسلم شخص کی اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے متعلقہ فیصلہ 2015میں سنایا تھا جبکہ اس نے2917میں اس فیصلہ کی سرٹیفائڈ کاپی کے لئے کورٹ میں اپیل کی تھی ۔اس پر بھی غور کیا کہ اس نے اپنی بیوی کی طرف سے دائر گھریلو تشدد کی شکایت پر سماعت میں محض 2014تک کورٹ میں اپنی موجودگی درج کرائی۔]اس کے بعد وہ مستقل غیر حاضر رہا ۔اس پر غورکیا گیا کہ اس نے فیصلہ کے خلاف موجودہ اپیل دائر کرنے میں تقریبا 2سال اور 2 ماہ کی تاخیر کی اور تاخیر کی کوئی واضح وجہ بھی عدلیہ کو نہیں بتایا، عدالت نے گھریلو تشدد کے قانون کے تحت دائر کردہ عورت کی شکایت پر3فروری 2014کو اپنے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔اس فیصلے کے تحت اپیل کنندہ کو اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کو ان کے گذر اوقات کے طور پر ہرماہ 25000روپے ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔مارچ 2017 میں دائر شدہ اپیل میں مذکورہ شخص نے عدالت کے فیصلے کو مسترد کرنے کی اپیل کی تھی۔اپیل کنندہ شخص نے دلیل دی کہ10اکتوبر2004 کو ان کے درمیان طلاق واقع ہوگئی تھی اور عدت کے ایام بھی گذار لئے گئے ہیں ؛ بنا بریں اسلامی قانون کے مطابق مطلقہ کو نان و نفقہ کیلئے شوہر سے مطالبہ نہیں کرسکتی اور شوہر اس کے نان و نفقہ کا ذمہ دار بھی نہیں ہے ۔ نیز اس صورت میں خانگی تشدد کے الزامات بھی واقع نہیں ہوتے ۔ اپیل کنندہ کی زوجہ نے گھریلو تشدد قانون کے تحت نان و نفقہ کا مطالبہ اور شوہر پر جہیز کے لئے زد و کوب کا الزام لگایا تھا۔


Share: